پاکستان میں حادثات کا بڑھتا ہوا سیلاب: آخر قصور کس کا ہے؟
تحریر: ایک پاکستانی شہری
پاکستان، جسے ہم جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں، آج کل ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں خبریں کم اور نوحے زیادہ سنائی دیتے ہیں۔ اگر ہم روزانہ کے اخبارات یا ٹی وی اسکرینوں پر نظر ڈالیں، تو شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہو جب کسی بڑے حادثے کی خبر دل نہ دہلا دے۔ کبھی سڑکوں پر بہتا ہوا خون، کبھی آگ کی لپیٹ میں آتی فیکٹریاں، اور کبھی ریلوے کی پٹریوں پر بکھرے ہوئے خواب۔ یہ محض حادثات نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمارے پورے نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
آج ہم اس تحریر میں ان وجوہات کا ذکر کریں گے جن کی وجہ سے پاکستان میں حادثات کی شرح آسمان کو چھو رہی ہے اور دیکھیں گے کہ کیا ہم واقعی ان سے بچ سکتے ہیں یا ہم نے یونہی بے موت مرنے کو اپنا مقدر سمجھ لیا ہے؟
سڑکوں پر موت کا رقص: ٹریفک حادثات
پاکستان میں ہونے والے حادثات میں سب سے بڑی تعداد ٹریفک حادثات کی ہے۔ موٹرویز ہوں یا شہر کی تنگ گلیاں، ہر جگہ افراتفری کا عالم ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ہمارے ہاں ہیلمٹ پہننا یا سیٹ بیلٹ باندھنا "شان" کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔
دوسری اہم وجہ کم عمر ڈرائیورز ہیں۔ آج کل چھوٹے چھوٹے بچے موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں دوڑاتے نظر آتے ہیں، جنہیں نہ تو ٹریفک کے اشاروں کا پتہ ہے اور نہ ہی وہ سڑک کی نزاکت کو سمجھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، سڑکوں کی خستہ حالی اور جگہ جگہ بنے ہوئے گڑھے بھی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں۔ جب تک لائسنس کا حصول شفاف نہیں ہوگا اور سڑکوں کی مرمت وقت پر نہیں ہوگی، یہ خونی کھیل جاری رہے گا۔
فیکٹریوں اور عمارتوں میں حفاظتی انتظامات کا فقدان
پاکستان کے صنعتی شہروں، خاص طور پر کراچی اور لاہور میں، اکثر فیکٹریوں میں آگ لگنے کے واقعات پیش آتے ہیں۔ ان حادثات کی بنیاد سیفٹی آڈٹ کی کمی ہے۔ بہت سی فیکٹریاں ایسی ہیں جہاں ہنگامی اخراج (Emergency Exit) کا کوئی راستہ ہی نہیں ہوتا۔ اگر خدانخواستہ آگ لگ جائے، تو مزدوروں کے پاس باہر نکلنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔
اس کے علاوہ، بجلی کی پرانی وائرنگ اور شارٹ سرکٹ وہ خاموش قاتل ہیں جو راتوں رات ہنستے بستے گھروں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیتے ہیں۔ عمارتوں کے نقشے پاس کرواتے وقت تو سیفٹی کا ذکر ہوتا ہے، لیکن عمل درآمد کے وقت رشوت اور سفارش آڑے آ جاتی ہے۔
ریلوے اور ہوائی سفر: غیر محفوظ سفر؟
ریلوے کسی بھی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں ریلوے کا سفر اب کسی مہم جوئی سے کم نہیں رہا۔ پٹریوں کا پرانا ہونا، سگنلز کا خراب نظام اور عملے کی غفلت ایسے عوامل ہیں جنہوں نے مسافروں کے دلوں میں خوف پیدا کر دیا ہے۔ اسی طرح ہوائی حادثات، اگرچہ کم ہوتے ہیں، لیکن جب ہوتے ہیں تو پورا ملک سوگ میں ڈوب جاتا ہے۔ ان تمام حادثات کے پیچھے مینٹیننس (دیکھ بھال) کی کمی سب سے بڑی وجہ ہے۔
قدرتی آفات اور ہماری تیاری
پاکستان جغرافیائی طور پر ایک ایسے خطے میں ہے جہاں زلزلے اور سیلاب کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے۔ 2005 کا زلزلہ ہو یا حالیہ برسوں کے تباہ کن سیلاب، ہم نے ہمیشہ دیکھا کہ ہماری پیشگی تیاری صفر کے برابر ہوتی ہے۔ ندی نالوں پر غیر قانونی قبضے اور نکاسی آب کا ناقص نظام معمولی بارش کو بھی قیامت خیز سیلاب میں بدل دیتا ہے۔ ہمیں "ڈیزاسٹر مینجمنٹ" کو صرف کاغذوں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ یونین کونسل کی سطح پر لوگوں کو تربیت دینی چاہیے۔
انسانی جان کی سستی قیمت
a
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں انسانی جان بہت سستی ہو گئی ہے۔ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے، تو چند دن شور مچتا ہے، کچھ معاوضوں کا اعلان ہوتا ہے، اور پھر سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔ کسی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر عبرت کا نشان نہیں بنایا جاتا۔ جب تک نظام میں احتساب نہیں آئے گا، حادثات کی یہ لہر نہیں رکے گی۔
حل کیا ہے؟ ایک روشن مستقبل کی تلاش
ہم صرف رونا رو کر خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک محفوظ بنے، تو ہمیں درج ذیل اقدامات کرنے ہوں گے:
تعلیم اور شعور: سکولوں اور کالجوں میں "روڈ سیفٹی" اور "فرسٹ ایڈ" کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے۔
ٹیکنالوجی کا استعمال: ٹریفک کنٹرول اور مانیٹرنگ کے لیے جدید کیمروں اور سینسرز کا استعمال کیا جائے تاکہ انسانی مداخلت اور رشوت کے امکانات کم ہوں۔
سخت سزائیں: قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو، چاہے وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، سخت سزا دی جائے۔
انفراسٹرکچر کی بہتری: حکومت کو چاہیے کہ وہ نئی سڑکیں بنانے کے ساتھ ساتھ پرانی سڑکوں اور پلوں کی مرمت کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔
ہنگامی امدادی مراکز: ہر بڑے شاہراہ پر تھوڑی تھوڑی دوری پر ریسکیو 1122 جیسے مراکز اور موبائل ہسپتال ہونے چاہئیں تاکہ حادثے کے فوری بعد طبی امداد مل سکے۔
حاصلِ کلام
پاکستان میں ہونے والے زیادہ تر حادثات "اتفاقیہ" نہیں ہوتے، بلکہ وہ کسی نہ کسی کی غفلت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ہم سب کو بطور شہری اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ چاہے وہ گاڑی چلاتے وقت اشارہ نہ توڑنا ہو یا اپنے گھر کی بجلی کی وائرنگ درست رکھنا ہو، چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں بڑی جانیں بچا سکتی ہیں۔
آئیے عہد کریں کہ ہم ایک ایسا پاکستان بنائیں گے جہاں سفر خوف کا نام نہ ہو اور جہاں ہر بچہ سکول سے بخیریت گھر لوٹ سکے۔ یاد رکھیے، احتیاط علاج سے بہتر ہے اور زندگی اللہ کی وہ نعمت ہے جس کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے۔
امید ہے بھائی یہ پوسٹ تمہارے کام آئے گی۔ کیا تم چاہو گے کہ میں اس کے لیے کچھ مزید یونیک تصویریں بھی بنا دوں؟
Comments
Post a Comment